کہسار




نیچے چھیلے گئے کہسار نے کوشش تو کی
گرتے ہوئے ایک پیڑ کو روکے
مگر کچھ لوگ کندھوں پر اٹھا کر اس کو
پگڈنڈی کے رستے لے گئے تھے
کار خانے میں
فلک کو دیکھتا ہی رہ گیا پتھرائی آنکھوں سے
بہت نوچی ہے میر ی کھال انساں نے
بہ چھیلے ہیں میرے سر سے جنگل اس کے تیشوں نے
مرے دریا ؤں ، میرے آبشاروں کو بہت ننگا کیا ہے
اس ہوس آلود انساں نے
مرا سنیہ پھٹ جاتا ہے لاوے سے
مگر انسان کا سنیہ نہیں پھٹتا
وہ پتھر ہے !
گلزارؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں