سانس لینا بھی کیسی عادت ہے




سانس لینا بھی کیسی عادت ہے
جیے جانا بھی کیا روایت ہے
کوئی آہٹ نہیں بد ن میں کہیں
کوئی سایہ نہیں ہے آنکھوں میں
پاؤں بے حس ہیں ، چلتے جاتے ہیں
اک سفر ہے جو بہتا رہتا ہے
کتنے برسوں سے ، کتنی صدیوں سے
جیے جاتے ہیں ، جیے جاتے ہیں
عادتیں بھی عجیب ہوتی ہیں
گلزار ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں