اک رات چلو تعمیر کریں




اک رات چلو تعمیر کریں
خاموشی کے سنگ مرمر پر
ہم تان کے تاریکی سر پر
دو شمعیں جلائیں جسموں کی !
جب اوس ، دبے پاؤں اترے
آہٹ بھی نہ پائے سانسوں کی
کہرے کی ریشمی خوشبو میں
خوشبو کی طرح ہی لپٹے رہیں
اور جسم کے سوندھے میں
روحوں کی طرح لہراتے رہیں !!
گلزار ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں