تو دوست کسو کا بھی ستم گر نہ ہوا تھا




تو دوست کسو کا بھی ستم گر نہ ہوا تھا
اوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھا
چھوڑا مہ نخشب کی طرح دست قضا نے
خورشید ہنوز اس کے برابر نہ ہوا تھا
توفیق باندازۂ ہمت ہے ازل سے
آنکھوں میں ہے وہ قطرہ کہ گوہر نہ ہوا تھا
جب تک کہ نہ دیکھا تھا قد یار کا عالم
میں معتقد فتنۂ محشر نہ ہوا تھا
میں سادہ دل آرزدگئ یار سے خوش ہوں
یعنی سبق شوق مکرر نہ ہوا تھا
دریائے معاصی تنک آبی سے ہوا خشک
میرا سر دامن بھی ابھی تر نہ ہوا تھا
جاری تھی اسدؔ داغ جگر سے مری تحصیل
آتش کدہ جاگیر سمندر نہ ہوا تھا
مرزا غالب




اپنا تبصرہ بھیجیں