عرض نیاز عشق کے قابل نہیں رہا




عرض نیاز عشق کے قابل نہیں رہا
جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
جاتا ہوں داغ حسرت ہستی لیے ہوے
ہوں شمع کشتہ در خور محفل نہیں رہا
مرنے کی اے دل اور ہی تدبیر کر کہ میں
شایان دست و بازوئے قاتل نہیں رہا
برروئے شش جہت در آئینہ باز ہے
یاں امتیاز ناقص و کامل نہیں رہا
وا کر دیے ہیں شوق نے بند نقاب حسن
غیر از نگاہ اب کوئی حائل نہیں رہا
گو میں رہا رہین ستم ہائے روزگار
لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا
دل سے ہوائے کشت وفا مٹ گئی کہ واں
حاصل سوائے حسرت حاصل نہیں رہا
بیداد عشق سے نہیں ڈرتا مگر اسدؔ
جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
ہر چند میں ہوں طوطی شیریں سخن ولے
آئینہ آہ میرے مقابل نہیں رہا
جاں داد گاں کا حوصلہ فرصت گداز ہے
یاں عرصۂ طپیدن بسمل نہیں رہا
ہوں قطرہ زن بہ وادیٔ حسرت شبانہ روز
جز تار اشک جادۂ منزل نہیں رہا
اے آہ میری خاطر وابستہ کے سوا
دنیا میں کوئی عقدۂ مشکل نہیں رہا
انداز نالہ یاد ہیں سب مجھ کو پر اسدؔ
جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
مرزا غالب




اپنا تبصرہ بھیجیں