یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں




یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں
کبھی صبا کو کبھی نامہ بر کو دیکھتے ہیں
وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
نظر لگے نہ کہیں اس کے دست و بازو کو
یہ لوگ کیوں مرے زخم جگر کو دیکھتے ہیں
ترے جواہر طرف کلہ کو کیا دیکھیں
ہم اوج طالع لعل و گہر کو دیکھتے ہیں
مرزا غالب




اپنا تبصرہ بھیجیں