ابی جو پاس سے گزری ہے خاک اڑاتی ہوئی




ابی جو پاس سے گزری ہے خاک اڑاتی ہوئی
یہی وہ کار تھی جس مین وہ لوگ آئے تھے
حضور آپ ہی جالب ہیں، آپ کی خاطر
تمام شہر میں دیوانہ وار گھومے ہیں
کسی طرح سے کہیں آپ کا سراغ ملے
حضور ہم نے بگولوں کے پاؤں چومے ہیں
ابھی جو پاس سے گزری ہے خاک اڑاتی ہوئی
مشاعرے میں اسی کار سے گیا تھا میں
حبیب جالب




اپنا تبصرہ بھیجیں