نئی پود




ریستوران میں بیٹھو اور کانٹے سے کھانا کھاؤ
الجھے الجھے شعر کہو ذہنوں کو خوب الجھاؤ
میر کے مصرعے آگے رکھ کر غزلیں کہتے جاؤ
خود کو پورا میر کو آدھا ہی شاعر بتلاؤ
اور پھر نئی پود کہلاؤ

ٹیبل پر جو بات کرو بس لکھتے جاؤ یارو
اور پھر اس کو ماہ نو کے ماتھے پر دے مارو
سب تم کو فنکار کہیں تم روپ کچھ ایسا دھارو
مکتب کے لڑکوں کو اپنی نظمیں یاد کراؤ
اور پھر نئی پود کہلاؤ

الٹی سیدھی باتوں سے محفل پر رعب جمانا
نقادوں کو پیسے دے کر خود پر کچھ لکھوانا
اس انداز سے شہرت کی منزل کو سیکھو پانا
موسیقار اگر بننا ہے ہلکا پھلکا گاؤ
اور پھر نئی پود کہلاؤ

چند لکیریں کھینچو، دے دو عورت کا عنوان
گنجا سر، بے نور نگاہیں اور سینہ ویران
کسی ہال میں کرو نمائش جاؤ انگلستان
ننگی تصویروں کو جو چاہو معنی پہناؤ
اور پھر نئی پود کہلاؤ
حبیب جالب




اپنا تبصرہ بھیجیں