یہ اور بات تیری گلی مین نہ آئیں ہم




یہ اور بات تیری گلی مین نہ آئیں ہم
لیکن یہ کیا ککہ شہر ترا چھوڑ جائیں ہم
مدت ہوئی ہے کوئے بتاں کی طرف گئے
آوارگی سے دل کو کہاں تک بچائیں ہم
شاید بقید زیست یہ ساعت نہ آسکے
تم داستان شوق سنو اور سنائیں ہم
بے نور ہو چکی ہے، بہت شہر کی فضا
تاریک راستوں میں کہیں کھو نہ جائیں ہم
اس کے بغیر آج بہت جی اداس ہے
جالب چلو کہیں سے اسے ڈھونڈ لائیں ہم
حبیب جالب




اپنا تبصرہ بھیجیں