شب کو چاند اور دن کو سورج بن کر روپ دکھاتی ہو




شب کو چاند اور دن کو سورج بن کر روپ دکھاتی ہو
پل چھن آنکھوں کی گلیوں مین تم آنچل لہراتی ہو
تم سے جگ اجیارا سارا روشن بستی بستی ہے
سانجھ سویرے ڈیرے ڈیرے جیون جوت جگاتی ہو
کتنی روشن ہے تنہائی جب سے یہ معلوم ہوا
میرے لئے اپنی پلکوں پر تم بھی دیپ جلاتی ہو
اے میری انمول غزل یہ بات بھی مجھ تک پہنچی ہے
یاران لاہور مین اب تک تم میری کہلاتی ہو
میر ہو غالب ہو یا جالب گیت تمہارے گاتے ہیں
سب کے شعروں میں تم اپنی سندر چھب دکھلاتی ہو
حبیب جالب




اپنا تبصرہ بھیجیں