دور سے آنکھیں دکھاتی ہے نئی دنیا مجھے




دور سے آنکھیں دکھاتی ہے نئی دنیا مجھے
گلشن ہستی نظر آتا ہے اک صحرا مجھے
عقل کی وادی میں ہوں گم کر دہ مقصوع عشق
ڈھونڈتا ہوں اور نہیں ملتا کوئی رستا مجھے
یہ بھی اک دھوکا تھا نیزنگ طلسم عقل کا
اپنی ہستی پر بھی ہستی کا ہوا دھوکا مجھے
شاعری کیا ، کفش بردار گرامی ہوں حفیظ
بے کمالی کے سوا کوئی نہیں دعویٰ مجھے
حفیظ جالندھری




اپنا تبصرہ بھیجیں