ابھی تو میں جوان ہوں




ابھی تو میں جوان ہوں
عبادتوں کا ذکر ہے
جنات کی بھی فکر ہے
جنون ہے ثواب کا
خیال ہے عذاب کا
مگر سنو تو شیخ جی
عجیب شے ہیں آپ بھی
بھلا شباب و عاشقی
الگ ہوئے بھی ہیں کبھی
حسین جلوہ ریز ہوں
ادائیں فتنہ خیز ہوں
ہوئیں عطر بیز ہوں
تو شوق کیون نہ تیز ہوں
نگار ہاے فتنہ گر
کوئی ادھر کوئی ادھر
تو کیا کرے کوئی بشر
شلو جی قصہ مختصر
تمہارا نقطہ نظر
درست ہے تو ہو مگر
ابھی تو میں جوان ہوں
یہ عشق کی کہانیاں
یہ رس بھری جوانیاں
ادھر سے مہربانیاں
ادھر سے لن ترانیاں
یہ آسمان یہ زمیں
نظارہ ہائے دلنشیں
انہیں حیات آفریں
بھلا میں چھوڑدوں یہیں ؟
ہے موت اس قدر قریں
مجھے نہ آئے گا یقیں
نہیں نہیں ابھی نہیں
ابھی تو میں جوان ہوں
حفیظ جالندھری




اپنا تبصرہ بھیجیں