اب وہ نوید ہی نہیں، صوت ہزار کیا کرے




اب وہ نوید ہی نہیں، صوت ہزار کیا کرے
لخل امید ہی نہیں ابر بہار کیا کرے
دن ہو تو مہر جلوہ گر ، شب ہو تو انجم و قمر
پردے ہی جب ہوں پردہ در، روئے نگار کیا کرے
عشق نہ ہو تو دل لگی ، موت نہ ہو تو خودکشی
یہ نہ کرے تو آدمی آخر کار کیا کرے
موت نے کس امید پر سونپ دیے ہیں بحر و بر
مشت غبار ہے بشر، مشت غبار کیا کرے
گریہ شرم واہ واہ، فرد عمل ہوئی تباہ
دیکھیے اک یہی گناہ روز شمار کیا کرے
اپنے کیے پہ بار بار کون ہو روز شرمسار
مل گیا عذر پائدار ، قول و قرار کیا کرے
حفیظ جالندھری




اپنا تبصرہ بھیجیں