مجاز عین حقیقت ہے باصفا کے لیے




مجاز عین حقیقت ہے باصفا کے لیے
بتوں کو دیکھ رہا ہوں مگر خدا کے لیے
اثر میں ہو گئے کیوں سات آسماں حائل
ابھی تو ہاتھ اٹھے ہیں نہیں دعا کے لیے
ہوا بس ایک ہی نالے میں دم فنا اپنا
یہ تازیانہ تھا عمر گریز پا کے لیے
الہیٰ ایک غم روزگار کیا کم تھا
کہ عشق بھیج دیا جان مبتلا کے لیے
اسی کو راہ دکھاتا ہوں جو مٹائے مجھے
میں ہوں تو نور مگر چشم نقش پا کے لیے
حفیظ جالندھری




اپنا تبصرہ بھیجیں