ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات ، یاد نہ تم کو آسکے




ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات ، یاد نہ تم کو آسکے
تم نے ہمیں بھلا دیا، ہم نہ تمہیں بھلا سکے
ہوشش میں آچکے تھے ہم، جو ش میں آچکے تھے ہم
بزم کا رنگ دیکھ کر سر نہ مگر اٹھا سکے
رونق بزم بن گئے ، لب پہ حکایتیں رہیں
دل میں شکایتیں رہیں، لب نہ مگر ہلا سکے
عجز سے اور بڑھ گئی برہمی مزاج دوست
اب وہ کرے علاج دوست ، جس کی سمجھ میں آسکے
اہل زباں تو ہیں بہت، کوئی نہیں ہے اہل دل
کون تری طرح حفیظ درد کے گیت گا سکے
حفیظ جالندھری




اپنا تبصرہ بھیجیں