سحر




یکا یک ایک نور کا
غبار شرق سے اٹھا
جو رفتہ رفتہ بڑھ چلا
اور آسماں پہ چھا گیا
حسینہ نمود نے
سیہ نقاب اٹھا دیا
فسوں گر شہودنے
طلسم شب مٹادیا
یکا یک ایک روشنی
نگاہ جاں میں آگئی
حیات میں سماگئی
یکا یک ایک نور کا
غبار شرق سے اٹھا
چلا ستارہ سحر
سنا کے صبح کی خبر
زمیں پہ نور چھا گیا
فلک پہ رنگ آگیا
شرار زادگان شب
چمک چمک کے سوگئے
پروئے آسمان شب
دمک دمک کے سوگئے
چراغ سرد ہو چکے
ستارے زرد ہو چکے
وہ ٹمٹماکے رہ گئے
یہ جھلملا کے رہ گئے
چلا ستارہ سحر
سنا کے صبح کی خبر
حفیظ جالندھری




اپنا تبصرہ بھیجیں