او دل توڑ کے جانے والے دل کی بات بتاتا جا




او دل توڑ کے جانے والے دل کی بات بتاتا جا
اب میں دل کو کیا سمجھاؤں ، مجھ کو بھی سمجھاتا جا
میری چپ رہنے کی عادت جس کا رن بدنام ہوئی
اب وہ حکایت عام ہوئی ہے سنتا جا شرماتا جا
یہ دکھ درد کی برکھا بندے دین ہے تیرے داتا کی
شکر نعمت بھی کرتا جا ، دامن بھی پھیلاتا جا
دونوں سنگ راہ طلب ہیں، راہنما بھی منزل بھی
ذوق طلب ! ہر ایک قدم پر دونوں کو ٹھکراتا جا
نغمے سے جب پھول کھلیں گے، چننے والے چن لیں گے
سننے والے سن لیں گے تو اپنی دھن میں گاتا جا
حفیظ جالندھری




اپنا تبصرہ بھیجیں