وہ سرخوشی دے کہ زندگی کو شباب سے بہرہ یاب کر دے




وہ سرخوشی دے کہ زندگی کو شباب سے بہرہ یاب کر دے
مرے خیالوں مین رنگ بھر دے ، مرے لہو کو شراب کر دے
یہ خوب کیا ہے یہ زشت کیا ہے، بشر کی اصلی سرشت کیا ہے
بڑا مزا ہو، تمام چہرے اگر کوئی بے نقاب کر دے
کہو تو راز حیات کہہ دوں، حقیقت کائنات کہہ دوں
وہ بات کہہ دوں کہ پتھروں کے دلوں کو بھی آب آب کر دے
خلاف تقدیر کر رہا ہوں، پھر ایک تقصیر کر رہا ہوں
پھر ایک تدبیر کر رہا ہوں خدا اگر کامیاب کر دے
حفیظ جالندھری




اپنا تبصرہ بھیجیں