تو ہی بھروسا تو ہی سہارا




تو ہی بھروسا تو ہی سہارا
پروردگار ا ، پروردگارا
منظور منظور اے اہل دنیا
اللہ میرا، باقی تمہارا
یوں میں نے جیتی الجت کی بازی
اک بار کھیلا سو بار ہارا
یہ ناخدا ہے اے اہل کشتی
شاید کسی وقت کر لے کنارا
پھر یہ جہنم کس کے لئے ہے
آمرز گارا ، آمرز گارا
عفو و خطا میں ضد ہو گئی تھی
وہ بھی نہ ہارے میں بھی نہ ہارا
حفیظ جالندھری




اپنا تبصرہ بھیجیں