ہم رات بہت روئے بہت آہ و فغاں کی




ہم رات بہت روئے بہت آہ و فغاں کی
دل درد سے بوجھ ہو تو پھر نیند کہاں کی
سر زانو پہ رکھے ہوئے کیا سوچ رہی رہی ہو
کچھ بات سمجھتی ہو محبت زدگاں کی ؟
تم میری طرف دیکھ کے چپ ہو سی گئی تھیں
وہ ساعت خوش وقت نشاط گزراں کی
اک دن یہ سمجھتے تھے کہ پایان تمنا
اک رات ہے مہتاب کے ایام جواں کی
اب اور ہی اوقات ہے اے جان تمنا
ہم نالہ کشاں ، بے گنہاں، غم زدگاں کی
ابن انشا




اپنا تبصرہ بھیجیں