انشا اٹھو اب کوچ کرو، اس شہر مین جی کو لگانا کیا




انشا اٹھو اب کوچ کرو، اس شہر مین جی کو لگانا کیا
وحشی کو سکوں سے کیا مطلب، جو گی کا نگر مین ٹھکانا کیا
اس دل کے دریدہ دامن کو، دیکھو تو سہی، سوچو تو سہی
جس جھولی مین سو چھید ہوئے، اس جھولی کا پھیلانا کیا ؟
شب بیتی، چاند بھی ڈوب چلا، زنجیر پڑی دروازے میں
کیوں دیر گئے گھر آئے ہو، سجنی سے کرو گے بہانا کیا ؟
پھر ہجر کی لمبی رات میاں، سنجوگ کی تو ہی ایک گھڑی
جو دل میں ہے لب پر آنے دو، شرمانا کیا، گھبرانا کیا ؟
اس روز جو ان کو دیکھا ہے، اب خواب کا عالم لگتا ہے
اس روز جو ان سے بات ہوئی، وہ بات بھی تھی افسانا کیا ؟
اس حسن کے سچے موتی کو ، ہم دیکھ سکیں پر چھو نہ سکیں
جسے دیکھ سکیں پر چھو نہ سکیں، وہ دولت کیا، وہ خزانا کیا ؟
اس کو بھی جلا دکھتے ہوئے من! اک شعلہ لال بھبو کا بن
یوں آنسو بن بہہ جانا کیا ؟ یوں ماٹی میں مل جانا کیا ؟
جب شہر کے لوگ نہ رستہ دیں، کیوں بن مین نہ جا بسرام کرے
دیوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانا کیا ؟
ابن انشا




اپنا تبصرہ بھیجیں