اے وائے بر حرف ہنر




اے وائے بر حرف ہنر
سورج سوانیزے پہ اور نیزہ مرے سینے کے پار
اور ہر طرف زندہ لہو کی آگ مین جھلسے ہوئے ، جلتے ہوئے لفظوں
کے بیچ
اک نسخہ ، مہردونیم
اور اک بھیانک چیخ ،پھر اک قہقہہ
پھر ایک آواز فغاں
اے وائے برمہر دونیم !!
اے وائے بر حوف دونیم !!
اے خالق آہنگ و رنگ و نغمہ و صوت و صدا
تیرے مغنی، تیرے صورت گر، تیرے حرف آشنا
لوح ابد پر اپنی مہر سر فرازی ثبت کرنے کے جنوں میں سرنگوں
خواروزبوں بے آسرا ، بے دست و پا
اے مالک آہنگ و رنگ و نغمہ ! یہ تیری جزا بھی خوب ہے
یہ منصب کا رامانت کا صلہ بھی خوب ہے
اک شاعر وارفتہ کے شوق فرارواں کی سزا بھی خوب ہے
افتخار عارف




اپنا تبصرہ بھیجیں