اب کے بچھڑا ہے تو کچھ نا شاد ماں وہ بھی تو ہے




اب کے بچھڑا ہے تو کچھ نا شاد ماں وہ بھی تو ہے
دھوپ ہم پر ہی نہیں بے سائباں وہ بھی تو ہے
شکوہ بیداد موسم اس سے کیجیے بھی تو کیوں
کیا کرے وہ بھی کہ زیر آسماں وہ بھی تو ہے
اور اب کیا چاہتے ہیں لوگ دیکھیں تو سہی
در بدر ہم ہی نہیں، بے خانماں وہ بھی تو ہے
اییک ہی دستک جہاں چونکائے رکے ساری عمر
ایک انداز شکست جسم و جاں وہ بھی تو ہے
اس طرف بھی اک نظر اے رہرو منزل نصیب
وہ جو منزل پر لٹا ہے کارواں وہ بھی تو ہے
افتخار عارف




اپنا تبصرہ بھیجیں