بن باس




رات دن خواب بنتی ہوئی زندگی
دل میں نقد اضافی کی لو
آنکھ بارامانت سے چور
موج خوں بے نیاز مآل
دشت بے رنگ سے درد کے پھول چنتی ہوئی زندگی
خوف واناندگی سے حجل
آرزوؤں کے آشوب سے مضمحل
منہ کے ہل خاک پر آپڑی
ہر طرف اک بھیانک سکوت
کوئی نوحہ نہ آنسو نہ پھول
حاصل جسم و جاں بے نشاں رہ گزاروں کی دھول
اجنبی شہر میں خاک بر سر ہوئی زندگی
کیسی بے گھر ہوئی زندگی
افتخار عارف




اپنا تبصرہ بھیجیں