غبار دشت طلب زیادہ ہے تو جنوں میں زیادہ ہو جا




غبار دشت طلب زیادہ ہے تو جنوں میں زیادہ ہو جا
مہار ناقہ کو پشت ناقہ پہ ڈال دے پا پیادہ ہو جا
بس ایک ہی راستہ ہے دنیا کو زیر کرنے کا، جیتنے کا
یہ جتنی پر پیچ ہوتی جائے سی قدر سہل و سادہ ہو جا
یہ میرا ذمہ کہ خود تری منزلیں تعاقب کریں گی تیرا
بس ایک محمل کو دیکھ اور بے نیاز ہر رخت و جادہ ہو جا
وہ جس کے ادنی سے اک اشارے پہ مہر و ماہتاب جاگتے ہیں
اسی کے قدموں پہ اپنی مرضی کو ڈال دے، بے ارادہ ہو جا
اور اس سے پہلے کو چشم بینا سے تاب نظارہ چھین لی جائے
قریب کے منظروں میں زنجیر ذہن کچھ تو کشادہ ہو جا
افتخار عارف




اپنا تبصرہ بھیجیں