غزل بعد ازیگانہ سرخرو ہم سے رہے گی




غزل بعد ازیگانہ سرخرو ہم سے رہے گی
مخاطب کوئی بھی ہو گفتگو ہم سے رہے گی
خس و خاشاک کی تقدیر ہے پامال رہنا
یہ پامالی جہاں کے رو برو ہم سے رہے گی
مثال سنگ تھے تب بھی یہ دل کہتا تھا ہم سے
دن آئیں گے کہ توقیر نمو ہم سے رہے گی
ہمیں کھینچیں گے فرد بے دلی پر خط تنسیخ
تب و تاب جہاں آرزو ہم سے رہے گی
پرائی بستیوں میں زندگی کھونے کے باوصف
گھر آئیں گے تو ساری ہائے ہو ہم سے ہرے گی
انیس، آتش ، یگانہ! مجرمانہ عالم حرف
اور اب اس سلسلے کی آبرو ہم سے رہے گی
افتخار عارف




اپنا تبصرہ بھیجیں