طوک قلم سے کا ٹرہا ہوں پسپائی اور خوف




طوک قلم سے کا ٹرہا ہوں پسپائی اور خوف
ایک جگہ کب رہ سکتے ہیں سچائی اور خوف
جس نے بچوں کے ہاتھوں چھینے قلم کتاب
بانٹ رہا ہے شہر میں وہ ہی مہنگائی اور خوف
ایسا امن ہوا ہے قائم شہر قائد میں
چیخ رہے ہوں جیسے ملکر شہنائی اور خوف
آدھی رات کو دروازے پر انہو نی دستک
سرگوشی کی دھند میں لپٹی انگنائی اور خوف
سوچ بھنور میں یخ بستہ ہے جینے کی امید
ٹوٹی کشتی بھپرا دریا گہرائی اور خوف
اندشیوں کی گود میں سسکے سبز رتوں کا چاند
رات اندھیری تنہا لڑکی رسوائی اور خوف
بھاری بوٹ کی چاپ میں دب گئی اک سبھی سی چیخ
رقص میں ہے پھر سرخ لہو کی پروائی اور خوف
بام تکبر سے اتری ہے ظلم و جبر کی رات
زخموں کی پوشاک میں گم ہے گویائی اور خوف
عارف کتنی جیون کی بے رنگ ہے یہ تصویر
ایک مسافر ویراں رستہ تنہائی اور خوف
عارف شفیقؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں