گلی کوچوں میں ہنگامہ بپا کرنا پڑے گا




گلی کوچوں میں ہنگامہ بپا کرنا پڑے گا
جو دل میں ہے اب اس کا تذکرہ کرنا پڑے گا
نتیجہ کربلا سے مختلف ہو یا وہی ہو
مدینہ چھوڑنے کا فیصلہ کرنا پڑے گا
وہ کیا منزل جہاں راستے آگے نکل پڑے جائیں
ہو اب پھر اک سفر کا سلسلہ کرنا پڑے گا
کہو دینے لگی ہے چشم خو ں بستہ سو اس بار
بھری آنکھوں سے خوابوں کو رہا کرنا پڑے گا
مبادا قصہ اہل جنوں ناگفتہ رہ جائے
نئے مضمون کا لہجہ نیا کرنا پڑے گا
درختوں پر ثمر آنے سے پہلے آئے تھے پھول
پھلوں کے بعد کیا ہوگا پتہ کرنا پڑے گا
گنوا بیٹھے تری خاطر ہم اپنے مہر و ماہتاب
بتا اب اے زمانے اور کیا کرنا پڑے گا
افتخار عارف




اپنا تبصرہ بھیجیں