جیسا ہوں ویسا کیوں ہو سمجھا سکتا تھا میں




جیسا ہوں ویسا کیوں ہو سمجھا سکتا تھا میں
تم نے پوچھا تو ہوتا بتلا سکتا تھا میں
آسودہ رہنے کی خواہش مارگئی، ورنہ
آگے اور بہت آگے تک جا سکتا تھا میں
چھوٹی موٹی ایک لہر ہی تھی مریے انر
ایک لہر سے کیا طوفان اٹھا سکتا تھا میں
کہیں کہیں سے کچھ مصرعے ایک آدھ غزل، کچھ شعر
اس وپنجی پر کتنا شور مچا سکتا تھا میں
جیسے سب لکھتے رہتے ہیں غزلیں نظمیں، گیت
ویسے لکھ لکھ کر انبار لگا سکتا تھا میں
افتخار عارف




اپنا تبصرہ بھیجیں