ہم اہل جبر کے نام و نسب سے واقف ہیں




ہم اہل جبر کے نام و نسب سے واقف ہیں
سروں کی فصل جب اتری تھی تب سے واقف ہیں
کبھی چھپے ہوئے خنجر، کبھی کھینچی ہوئی تیغ
سپاہ ظلم کے ایک ایک ڈھب سے واقف ہیں
وہ جن کی دستخطیں محضر ستم پہ ہیں ثبت
ہر اس ادیب، ہر اس بے ادب سے واقف ہیں
یہ رات یوں ہی تو دشمن نہیں ہماری کہ ہم
درازی شب غم کے سبب سے واقف ہیں
نظر میں رکھتے ہیں عصر بلندی یامئی مہر
فرات جبر کے ہر تشنہ لب سے واقف ہیں
کوئی نئی تو نہیں حرف حق کی نتہائی
جو جانتے ہیں وہ اس اپر رب سے واقف ہیں
افتخار عارف




اپنا تبصرہ بھیجیں