کسی کے جور و ستم یاد بھی نہیں کرتا




کسی کے جور و ستم یاد بھی نہیں کرتا
عجیب شہر ہے فریاد بھی نہیں کرتا
کوئی تو ہے جو پرندوں کو بال و پر دے کر
زمیں کی قید سے آزاد بھی نہیں کرتا
نہ جانے کیسی قیامت گزر گئی اب کے
غریب شکوہ یبداو بھی نہیں کرتا
کبھی کبھی یہ گراں گوش چیخ پڑتا تھا
یہ کام اب مراہم زاد بھی نہیں کرتا
وہی صلیب و سلاسل، سکول و سنگ زنی
نئے ستم کوئی ایکجاد بھی نہیں کرتا
افتخار عارف




اپنا تبصرہ بھیجیں