میں راکھ ہوتے ہوئے شہر میں بجھے دل سے




میں راکھ ہوتے ہوئے شہر میں بجھے دل سے
چلا ہوں ہاتھ ملانے خود اپنے قاتل ہے
عبور کر کے یہ آئے ہیں آگ کا دریا
شریف لوگ جو لگتے ہیں تجھ کو بزدل سے
مجھے بھی دور سے دیکھا ہے ایسے دنیا نے
کہ جیسے دیکھا ہو طوفان کو سب نے ساحل سے
وہ میری ذاتکی تنہائیوں میں روشن ہیں
ملے ہیں دکھ جو مجھے دوستوں کی محفل سے
ابھی تو بھوک سے رو رو کے سئے تھے بچے
پھر اٹھ کے رونے لگے ہیں صدائے سائل سے
یہی ہین سچ کے امیں جو دکھائی دیتے ہیں
گنوار میلے کچیلے عجیب جاہل سے
اسیر اتنا تھا آوارگی کی لذت کا
میں لوٹ آیا تھا عارف کود اپنی منزل سے
عارف شفیقؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں