لفظوں سے تو پھولوں کی تصویر بنا




لفظوں سے تو پھولوں کی تصویر بنا
تو شاعر ہے لہجہ مت شمشیر بنا
لہو پسینہ دے کر بنجر دھرتی کو
اپنے وطن کی خاک کو تو اکسیر بنا
قید تو کر سکتا ہو جس سے سوچ مری
ممکن ہو تو ایسی بھی زنجیر بنا
اک پاگل جو ان گلیوں میں پھرتا تھا
مر کر کتنے لوگوں کا وہ پیر بنا
روز جنازے اٹھتے ہیں مظلوموں کے
شہر کو میرے ظالم مت کشمیر بنا
دل کے لہو سے لفظوں کو مہکایا تو
میرا ہر دکھ شعروں کی تاثیر بنا
نئی زمینوں میں تازہ غزلیں لکھ کر
شہر سخن میں تو اپنی جاگیر بنا
اس کا سراپا اس کی رنگت اس کا جمال
دیکھ رہا ہوں گم صم میں تصویر بنا
فکر میں رکھ احساس کی شدت بھی شامل
اسی بنا پر میر بھی عارف میر بنا
عارف شفیقؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں