ساتھ اپنے ہم جو لائے رنگ خوشبو روشنی




ساتھ اپنے ہم جو لائے رنگ خوشبو روشنی
ہیں اسی پرچم کے سائے رنگ خوشبو روشنی
کر رہا ہے کون یہ مجھ میں تلاوت صبح و شام
دل کی دھڑکن میں سمائے رنگ خوشبو روشنی
دیکھنا ہے کب تلک رکھتی ہے اپنی قید میں
یہ تری ویراں سرائے رنگ خوشبو روشنی
دل کنول مرجھا گیا رنگت اڑی میں بجھ گیا
لوٹ کر واپس نہ آئے رنگ خوشبو روشنی
پھر کسی کے حسن کی تصویر کرنے کے لیے
میں نے شعروں میں سجائے رنگ خوشبو روشنی
بن کے آنسو رات بھر گرتے رہے آنکھوں سے خواب
میں نے مٹی میں ملائے رنگ خوشبو روشنی
اپنی دھرتی سے بچھڑ کر مین تو ویرا ں ہو گیا
ہیں یہاں سب ہی پرائے رنگ خوشبو روشنی
تیرگی کے شہر مین پھرتا ہے عارف کس لئے
اپنی آنکھوں میں بسائے رنگ خوشبو روشنی
عارف شفیقؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں