نئی آنکھ کا پرانا خواب




نئی آنکھ کا پرانا خواب
آتش دان کے پاس
گلابی حدت کے ہالے مین سمٹ کر
تجھ سے باتیں کرتے ہوئے
کبھی کبھی تو ایسا لگا ہے
جیسے اوس میں بھیگی گھاس پہ
اس کے بازو تھامے ہوئے
میں پھر نیند میں چلنے لگی ہوں !
پروین شاکر




اپنا تبصرہ بھیجیں