یہی ثبوت ہے کافی کہ میں بھی سچا ہوں




یہی ثبوت ہے کافی کہ میں بھی سچا ہوں
لہو لہان ہوں پھر بھی دعائیں دیتا ہوں
سنہرے خواب سجا کر اداس آنکھوں میں
ہر ایک شام ترا انتظار کرتا ہوں
تم اعتکاف میں بیٹھو خدا کو یاد کرو
میں آدمی سے ہی مل کر خدا سے ملتا ہوں
سحر جو ہو گی تو یہ خراب ٹوٹ جائیں گے
تمام رات حسیں خواب بنتا رہتا ہوں !
جو بات دل میں ہو کہتے ہیں یہ زباں سے وہی
اسی لئے تو میں بچوں سے پیار کرتا ہوں
اسی نے بخشے ہیں فاقے مجھے اسد عارف
میں جس وڈیرے کے کھیتوں میں فصل بوتا ہوں
عارف شفیقؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں