موجیں بہم ہوئیں تو کنارہ نہیں رہا




موجیں بہم ہوئیں تو کنارہ نہیں رہا
آنکھوں میں کوئی خوب دوبارہ نہیں رہا
گھر بچ گیا کہ دور تھے، کچھ صاعقہ مزاج
کچھ آسمان کا بھی اشارہ نہیں رہا
بھولا ہے کون ایڑ لگا کر حیات کو
رکنا ہی رخش جاں کو گوارا نہین رہا
جب تک وہ بے نشاں رہا، دسترس تھا
خوش نام ہو گیا تو ہمارا نہیں رہا
گم گشتہ سفر کو جب اپنی خبر ملی
رستہ دکھانے والا ستارہ نہیں رہا
کیسی گھڑی میں ترک سفر کا خیال ہے
جب ہم میں لوٹ آنے کا یارا نہیں رہا
پروین شاکر




اپنا تبصرہ بھیجیں