شرارت




جھاگ اڑاتا چشمہ
میرے بال بھگو کر
دور کہیں جا نکلا ہے
لیکن اس کی شاخی اب تک
میری مانگ سے موتی بن کر
قطرہ قطرہ ٹپک رہی ہے !
پروین شاکر




اپنا تبصرہ بھیجیں