پہلے پہل




شکن چپ ہے
بدن خاموش ہے
گالوں پہ دیسی تمتما ہٹ بھی نہیں ، لیکن
میں گھر سے کیسے نکلوں گی
ہوا چنچل سہیلی کی طرح باہر کھڑی ہے
دیکھتے ہی مسکرائے گی !
مجھے چھو کر تری ہر بات پالے گی
تجھے مجھ سے چرالے گی
زمانے بھر سے کہہ دے گی میں تجھ سے مل کر آئی ہوں !
ہوا کی شوخیاں یہ
اور میرا بچپنا ایسا
کہ اپنے آپ سے بھی میں
تری خوشبو چھپاتی پھر رہی ہوں !
پروین شاکر




اپنا تبصرہ بھیجیں