تیری ہم رقص کے نام




رقص کرتے ہوئے
جس کے شانوں پہ تو نے ابھی سر رکھا ہے
کبھی میں بھی اسا کے پناہوں میں تھی
فرق یہ ہے کہ میں
رات سے قبل تنہا ہوئی
اور تو صبح تک
اب فریب تحفظ میں کھوئی رہے گی
پروین شاکر




اپنا تبصرہ بھیجیں