وہ جس کی رسم لہو سے دیے جلانا ہے




وہ جس کی رسم لہو سے دیے جلانا ہے
وہی قبیلہ ہے میرا وہی گھراناہے
لگا رہے ہیں مرے فن کی قیمتیں کیا کیا
مزاج شہر کے لوگوں کا تاجرانا ہے
میں اپنے عہد کی تاریخ لکھے بیٹھا ہوں
غزل تو کیا ہے مجھے آئینہ دکھانا ہے
بنے بنائے ہوئے راستوں سے بچ کر چل
اگر تجھے بھی نیا راستہ بنانا ہے
اب اس سے پہلے کہ یہ شہر راکھ ہو جائے
تعصبات کی اس آگ کو بجھانا ہے
اسی کی چاہ میں سب کچھ لٹا کے ہجر ت کی
یہ سر زمین مراآخری ٹھکانا ہے
ہوئے غلامی سے آزادی جو ہمارے سبب
انہی کا ہم سے رویہ بھی حاکمانہ ہے
ہر ایک ہاتھ میں ہتھیار ہوں جہاں عارف
مجھے قلم سے وہاں انقلاب لانا ہے
عارف شفیقؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں