ہم نے کل رات دیکھا ایسا خواب




ہم نے کل رات دیکھا ایسا خواب
آنکھ کھلتے ہی تھے سراپا خواب
رتجگوں کی اداس دستک پر
گھر سے نکلا ہے آنکھ ملتا خواب
روز اک خوف سے گزرتے ہیں
نیند کیسی میاں کہاں کا خواب
در بدر خواہشیں بھٹکتی ہوئی
دم بدم کینچلی بدلتا خواب
یہ بھی دن دیکھنے تھے آنکھوں نے
دیکھنے کو تجھے بھی دیکھا خواب
میں بھی ہوں اس قبیلہ ء شب سے
جس کا ہے اوڑھنا بچھونا خواب
کنور امتیاز احمد




اپنا تبصرہ بھیجیں