وہ دیکھو سورج نکل رہا ہے




وہ دیکھو سورج نکل رہا ہے
ہر ایک منظر بدل رہا ہے
یقین گماں میں بدل نہ جائے
گماں یقیں میں بدل رہا ہے
کوئی سہارا نہیں ہے جس کا
وہ گر کے خود ہی سنبھل رہا ہے
تھی ان کی منزل صلیب و مقتل
تو جن کے رستے پہ چل رہا ہے
کسی کو خوش دیکھ کے وہ حاسد
خود آگ میں اپنی جل رہا ہے
یہ بھاری بوٹوں سے کون عارف
زمیں کا سینہ کچل رہا ہے
عارف شفیقؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں