خواب ہی میں اب کسی کو دیکھنے جاتا ہوں میں




خواب ہی میں اب کسی کو دیکھنے جاتا ہوں میں
اپنی چادر دیکھ کر ہی پاؤں پھیلاتا ہوں میں
تم ذرا ٹھہرو یہ دستک تو کسی اپنے کی ہے
دل کی جانب جا رہا ہوں دیکھ کر آتا ہوں میں
کیا تماشا ہے کہ دم بھر بھی نہیں دیکھا اسے
کیا قیامت ہے ابھی آیا ابھی جاتا ہوں میں
کون چڑھتا آرہا ہے مجھ پہ رنگوں کی طرح
کون ظاہر ہو رہا ہے جو چھپا جاتا ہوں میں
کواب اور تعبیر کے مابین اک برزخ میں ہوں
آنکھ بھی کھلتی نہیں سو بھی نہیں پاتا ہوں میں
بھانپ لیتا ہوں میں آتے وقت کے تیور کنور
پھول کھلتے دیکھتا ہوں اور کملاتا ہوں میں
کنور امتیاز احمد




اپنا تبصرہ بھیجیں