میں کیا بتاؤں تمہیں کون تھا وہ کیسا تھا




میں کیا بتاؤں تمہیں کون تھا وہ کیسا تھا
بس ایک کواب تھا جو جاگتے میں دیکھا تھا
ترے فراق میں بے آسرا نہیں تھا میں
ترا خیال مجھے پوچھنے کو آتا تھا
وہ شخص سامنے جس کے پلک نہیں گزری
پلک جھپکتے ہی گزرے دنوں کا قصہ تھا
یہ وہم تھا کہ مرے ساتھ ساتھ ہے کوئی
یہ وہم تھا کہ مرے ساتھ میرا سایا تھا
وہ جانتا تھا کہ مجھ میں نہیں ہے تاب اتنی
وہ شخص میرے لیے مجھ سے دور رہتا تھا
کنور امتیاز احمد




اپنا تبصرہ بھیجیں