کیسے رخصت کروں اسے گھر سے




کیسے رخصت کروں اسے گھر سے
ہوک اٹھتی ہے میرے اندر سے
یوں لگا جیسے کائنات اٹھی
وہ اٹھا یوں مرے برابر سے
کوں مجھے کچھ نظر نہیں آتا
جانے کیا اٹھ گیا ہے منظر سے
جب سے روٹھا کنور مرا سورج
رات نکلی نہیں مرے گھر سے
کنور امتیاز احمد




اپنا تبصرہ بھیجیں