تیری بانہوں میں تری گود مین آکر سو جاؤں




تیری بانہوں میں تری گود مین آکر سو جاؤں
پھر کوئی شب کہ ترے پاؤں دبا کر سو جاؤں
صبح تک یونہی بھٹکنا ہے مجھے سڑکوں پر
گھر نہیں ہے کہ جہاں رات کو جا کر سو جاؤں
اب تو اک عمر سے معمول یہی ہے میرا
صبح تک جاگ کے سورج کو جگا کر سو جاؤں
جس نے اک عمر مجھے رات کو سونے نہ دیا
تجھ سے مل کر تجھے وہ بات بتا کر سو جاؤں
کنور امتیاز احمد




اپنا تبصرہ بھیجیں