سڑکوں درکتوں اور ستاروں کے ساتھ تھا




سڑکوں درکتوں اور ستاروں کے ساتھ تھا
اک عمر بعد پھر سے میں اپنوں کے ساتھ تھا
کیوں چاند دیکھتے ہی مجھے نیند آگئی
کیا میرا جاگنا بھی اندھیروں کے ساتھ تھا
مجھ مین جو بات تھی وہ مرے ساتھ اٹھ گئی
میرا مکالمہ یہاں بہروں کے ساتھ تھا
کوش قسمتی سے آج ترے ساتھ ساتھ ہے
جو شخص کل تلک تری یادوں کے ساتھ تھا
کل بھی تمام رات ہی رونے مین کٹ گئی
کل بھی وہ شخص میر کے شعروں کے ساتھ تھا
رستے ہی اب تو اپنے لیے گھر ہوئے کنور
گھر کا وجود گھر کے بزرگوں کے ساتھ تھا
کنور امتیاز احمد




اپنا تبصرہ بھیجیں