مثل آئینہ کسی کے سامنے رہتا تھا میں




مثل آئینہ کسی کے سامنے رہتا تھا میں
اب تو مجھ کو خود یقیں آتا نہیں، ایسا تھا مٰن
ہاں میاں کچھ روز پہلے تک وہ میرے ساتھ تھا
ہاں میا کچھ روز پہلے تک ہوا کرتا تھا میں
اس کی آنکھوں نے مجھے یوں آئینہ سا کر دیا
ورنہ خود کو جانتا ہوں کون تھا اور کیا تھا میں
سارا دن میں دیکھتا تھا سام کا رستہ کنور
شام ادھر آتی ادھر اس کی طرف جاتا تھا میں
کنور امتیاز احمد




اپنا تبصرہ بھیجیں