یہ پھول یہ کتا ب مرا مسئلہ نہیں




یہ پھول یہ کتا ب مرا مسئلہ نہیں
اے دل یہ شہر خواب مرا مسئلہ نہیں
میری سیاہ رات مری کائنات ہے
یہ مہر و ماہتاب مرا مسئلہ نہیں
یہ دشت پر ملال مرے حسب حال ہے
ہنستا ہوا گلاب مرا مسئلہ نہیں
جس دن سے اس کے آنے کی امید بجھ گئی
یہ صبح آبتا ب مرا مسئلہ نہیں
دنیا کو چاہتا ہوں میں اپنوں کے واسطے
یہ خانماں خراب مرا مسئلہ نہیں
میں دل ہوں میرے دوست مرا مسئلہ ہے عشق
ناکام و کامیاب مرا مسئلہ نہیں
کنور امتیاز احمد




اپنا تبصرہ بھیجیں